خصوصی فیچرز

خوشی کیسے حاصل ہوتی ہے؟


بادشاہ خوش نہیں تھا‘ وہ خوش رہنا چاہتا تھااور خوشی کی تلاش میں مارا مارا پھرتا تھا‘ اس نے خوشی کے ماہرین کی مدد بھی لی اور سیانوں‘ دانشوروں اور سمجھ داروں کی پوٹلیوں میں بھی جھانکا مگر خوشی کا فارمولہ ہاتھ نہ آیا‘ وہ ایک پہاڑ پر چلا گیا‘ پہاڑ پر ایک درویش رہتا تھا‘ درویش کے دو مشاغل تھے‘ صبح صادق کے وقت مشرق کی طرف منہ کر کے بیٹھ جانا اور سورج کو آہستہ آہستہ افق سے ابھرتے ہوئے دیکھنا اور اور اس کے بعد جنگل میں نکل جانا‘ سارا دن جنگل میں گزار دینا۔ بھوک لگتی تھی تو وہ درختوں سے پھل توڑ کر کھا لیتا تھا‘ پیاس محسوس ہوتی تو وہ ندیوں‘ جھرنوں اورآبشاروں کا پانی پی لیتا‘ درویش کے پاس رہنے کیلئے ایک کٹیا تھی‘ وہ رات کٹیا میں آ جاتا تھا‘ درویش کے پاس سردیوں کیلئے دو کمبل تھے‘ گرمیوں کیلئے کھلا آسمان اور ٹھنڈی زمین تھی اور کپڑے لتے کی ضرورت زائرین پوری کر دیتے تھے‘ درویش کے پاس اس کے علاوہ کچھ نہیں تھا لیکن وہ اس کے باوجود خوش تھا‘ بادشاہ اس خوشی کی وجہ دریافت کرنے کیلئے درویش کے پاس پہنچ گیا‘ درویش نے سنا‘ قہقہہ لگایا‘ لکڑی کی کھڑاویں پہنیں اور بادشاہ سے کہا ”بادشاہ سلامت میں اس کا جواب آپ کے دربار میں جا کر دوں گا“ بادشاہ نے درویش کو گھوڑے پر بٹھایا اور دارالخلافہ آ گیا‘ درویش نے درخواست کی‘ آپ اب کسی ضرورت مند کو بلائیے‘ بادشاہ نے عرضیوں کی ٹرے سے ایک خط نکالا‘وہ خط وزیر کے حوالے کیا اور ضرورت مند کو طلب کرنے کا حکم دے دیا‘ ضرورت مند کو دربار میں حاضر کر دیا گیا‘ درویش نے بادشاہ کے کان میں سرگوشی کی ”آپ حکم جار کریں‘ اے ضرورت مند! تم جاؤ‘ میری سلطنت میں دوڑو‘ تم سورج غروب ہونے تک زمین پر جتنا بڑا دائرہ بنا لو گے وہ زمین تمہاری ہو جائے گی“۔ بادشاہ نے ضرورت مند کو حکم دے دیا‘ حکم جاری ہونے کے بعد بادشاہ‘ درویش اور درباری محل کے سامنے کرسیاں بچھا کر بیٹھ گئے‘ ضرورت مند کو لکیر کھینچ کر ایک مقام پر کھڑا کر دیا گیا‘ بادشاہ کا رومال ہلا اور ضرورت مند نے دوڑنا شروع کر دیا‘ ضرورت مند نے دوڑ کے آغاز میں وقت کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا‘ صبح سے ظہر تک آگے جانا اور ظہر سے مغرب تک واپسی کا سفر۔ ضرورت مند کا خیال تھا‘ یوں وہ زمین کا بہت بڑا ٹکڑا ہتھیا لے گا‘ ضرورت مند سرپٹ بھاگتا رہا‘ ظہر کے وقت اس نے چار سو ایکڑ زمین گھیر لی‘ فارمولے کے مطابق ضرورت مند کو اب واپسی کا سفر شروع کرنا تھا لیکن وہ لالچ کا شکار ہو گیا‘

اس نے سوچا میں اگر اپنی سپیڈ بڑھا لوں تو میں عصر تک سو ایکڑ زمین مزید گھیر لوں گا اور میں اگر اسی سپیڈ سے واپسی کیلئے دوڑوں تو میں مغرب تک واپس پہنچ جاؤں گا۔ میں آپ کویہاں انسان کی فطرت کی ایک کمزوری بتاتا چلوں‘ انسان لالچی ہے اور لالچ میں دو درجن خامیاں ہیں لیکن اس کی سب سے بڑی خامی کا تعلق انسانی ذہن کے ساتھ ہے‘اللہ تعالیٰ نے انسان کو تخمینہ لگانے‘ کیلکولیشن کرنے کی صلاحیت سے نواز رکھا ہے‘ ہم جب بھی کوئی چیز دیکھتے ہیں‘ ہمارا دماغ فوراً اس کے عرض بلد‘ موٹائی‘ وزن اور قیمت کا اندازہ لگاتا ہے اور ہم اس کیلکولیشن کی بنیاد پر اگلے فیصلے کرتے ہیں مگر ہم جب لالچ میں آتے ہیں تو ہمارا دماغ ایک عجیب کیمیکل پیدا کرتا ہے‘ یہ کیمیکل ہماری کیلکولیشن کی کی صلاحیت کو تباہ کر دیتا ہے اور یوں ہم غلط فیصلے کرنے لگتے ہیں‘ آپ فراڈیوں کے ہاتھوں عمر بھر کی کمائی لٹانے والے لوگوں کی کہانیاں سنیں‘ آپ کہانی سننے کے فوراً بعد کہیں گے ”تم پڑھے لکھے‘ سمجھ دار انسان ہو‘ تم یہ اندازہ نہیں لگا سکے لوہا کبھی سونا نہیں بن سکتا یا جو شخص ٹیکسی پر تمہارے پاس آیا تھا وہ تمہیں پانچ کروڑ کی زمین اڑھائی کروڑ میں کیسے دے سکتا ہے یا جو دکان مارکیٹ میں کروڑ روپے کی ہے وہ دس لاکھ روپے میں کیسے مل سکتی ہے اور مٹھائی سے شوگر کا علاج کیسے ہو سکتا ہے اور اتنی خوبصورت لڑکی امریکا سے پاکستان آ کر تم جیسے میٹرک فیل لڑکے سے کیوں شادی کرے گی“ وغیرہ وغیرہ۔ فراڈ کا نشانہ بننے والا عموماً یہ جواب دیتا ہے ”بھائی جان وہ جادوگر تھا‘ اس نے میری عقل پر پردہ ڈال دیا تھا“ فراڈیاجادوگر نہیں تھا‘ جادوگر لالچ تھا اور لالچ سے پیدا ہونے والا وہ کیمیکل تھا جو انسان کی عقل سلب کر لیتا ہے اور یوں اچھا بھلا سمجھ دار شخص ماموں بن جاتا ہے‘

میں واپس زمین گھیرنے والے شخص کی طرف آتا ہوں‘ لالچ نے اس کی عقل بھی سلب کر لی‘ اس کی کیلکولیشن بھی غلط ہو گئی‘ وہ مزید زمین کے لالچ میں عصر تک بھاگتا رہا‘ سورج نے جب تیزی سے واپسی کا سفر شروع کیا تو اس شخص کو اپنی غلطی کا احساس ہوا‘ وہ پلٹا اور واپسی کیلئے دوڑ لگا دی لیکن دیر ہو چکی تھی‘ وہ اب مغرب سے قبل واپس نہیں پہنچ سکتا تھا‘ اس کے پاس اس وقت دو آپشن تھے‘ وہ اپنی ہار مان لیتا‘ دوڑنا بند کر دیتا اور چپ چاپ گھر واپس چلا جاتا یا پھر جیتنے کیلئے سرتوڑ کوشش کرتا‘ وہ دوسرے آپشن پر چلا گیا‘ میں آپ کو یہاں انسان کی ایک اور خامی بھی بتاتا چلوں‘ کامیابی میں سرتوڑ محنت ہمیشہ تیسرے نمبر پر آتی ہے‘ پہلا نمبر پلاننگ اور دوسرا نمبرصلاحیت کو حاصل ہوتا ہے‘ آپ کی منصوبہ بندی غلط ہے‘ آپ پہاڑ پر کھجور لگانا چاہتے ہیں یا صحرا میں چاول اگانا چاہتے ہیں تو خواہ کتنی محنت کر لیں آپ کی کامیابی کے امکانات بہت کم ہوں گے‘ دوسرا آپ میں اگر صلاحیت نہیں‘ آپ نے اگرباقاعدہ ٹریننگ حاصل نہیں کی‘ آپ نے اگرٹاسک کیلئے تیاری نہیں کی تو بھی آپ خواہ کتنی ہی سر توڑ محنت کر لیں آپ کامیاب نہیں ہو سکیں گے‘ زمین گھیرنے والا بھی منصوبہ بندی اور صلاحیت دونوں سے عاری تھا چنانچہ اس نے دوسرا فیصلہ بھی غلط کیا‘ اس نے سر توڑ کوشش کی ٹھان لی‘ بھاگنے کی سپیڈ بڑھا دی‘ وہ بری طرح تھکاوٹ کا شکار تھا لیکن وہ اس کے باوجود دیوانہ وار دوڑ رہا تھا‘ وہ وقت پر پہنچنے کی کوشش میں اپنی سپیڈ بڑھاتا رہا یہاں تک کہ اس کے پھیپھڑے پھٹ گئے‘ اس کے منہ سے خون جاری ہو گیا لیکن وہ اس کے باوجود بھاگتا رہا‘ وہ بالآخر بادشاہ تک پہنچ گیا لیکن گول پرپہنچنے کے بعد اس نے لمبی ہچکی لی‘ زمین پر گرا‘ تڑپا اور اپنی جان‘ جان آفرین کے حوالے کر دی‘ وہ زمین جیت گیا تھا لیکن زندگی ہار گیا۔درویش اپنی جگہ سے اٹھا‘ زمین پر گرے شخص کے قریب آیا‘ ہاتھ سے اس کی کھلی آنکھیں بند کیں‘ بادشاہ کو قریب بلایا اور اس بدنصیب شخص کی لاش دکھا کر بولا”بادشاہ سلامت حرص کے بیوپاری کبھی خوش نہیں رہ سکتے‘

یہ شخص مجھ سے بہتر زندگی گزار رہا تھا‘ میرے پاس کپڑوں کا ایک جوڑا‘ لکڑی کے جوتے‘ دو کمبل اور ایک پیالے کے سوا کچھ نہیں‘ میں شہر سے کوسوں دور پہاڑ پر رہتا ہوں‘ پھل کھاتا ہوں اور ندیوں کا پانی پیتا ہوں لیکن خوش ہوں‘ کیوں؟ کیونکہ میں لالچ نہیں کرتا جبکہ آپ میرے مقابلے میں اس شخص کے اثاثے دیکھئے‘ یہ شخص مجھ سے ہزار درجے بہتر ہو گا‘ اس کے پاس مکان بھی ہو گا‘ بیوی بچے بھی‘ کپڑے بھی‘ سواری بھی‘ دال اناج بھی اور زمین جائیداد بھی لیکن یہ اس کے باوجود زمین پر گر کر مر گیا‘ کیوں؟ کیونکہ یہ اپنے اندر کے لالچی انسان کو قابو میں نہ رکھ سکا‘ یہ دیوانہ وار خواہشوں کے پیچھے بھاگتا رہا‘ یہ کبھی کسی کو درخواست دے دیتا اورکبھی آپ کو عرضی بھجوا دیتا‘ قسمت نے یاوری کی اس کی لاٹری نکل آئی‘ آپ نے اسے زمین گھیرنے کی اجازت دے دی‘ یہ بھاگا لیکن اس کا لالچ بھی اس کے ساتھ ہی دوڑ پڑا‘ یہ اگر سمجھ دار ہوتا‘ یہ اگر درمیان میں قناعت کر لیتا‘ یہ رک جاتا‘ یہ جو حاصل ہو گیا اس پر اکتفا کر لیتا‘ یہ شکر ادا کرتا اور زندگی کو انجوائے کرنا شروع کر دیتا تو یہ نعمت اس کیلئے کافی ہوتی لیکن یہ لالچ کے گھوڑے سے نہ اترا‘ یہ بھاگتا رہا یہاں تک کہ لالچ نے اس کی جان لے لی“ درویش نے لمبی سانس لی اور بولا ”بادشاہ سلامت! حرص اور خوشی دونوں سوتنیں ہیں‘یہ اکٹھی نہیں رہ سکتیں‘ آپ خوش رہنا چاہتے ہیں تو آپ کو لالچ کو طلاق دینا ہو گی‘ خوشی خود بخود آپ کے گھر میں بس جائے گی لیکن آپ اگر لالچ کے گھوڑے پر بیٹھ کر خوشی کی تلاش میں سرپٹ بھاگتے رہے تو آپ کا انجام بھی اس شخص جیسا ہو گا‘ آپ بھی عبرت کا رزق بن جائیں گے“ بادشاہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے‘ اس نے گلوگیر لہجے میں عرض کیا ”جناب! بادشاہت حرص کی دلدل ہوتی ہے‘آپ بادشاہ ہوتے ہوئے خود کو لالچ سے کیسے بچا سکتے ہیں“ درویش نے قہقہہ لگایا اور فرمایا ”اختیار میں اضافہ بادشاہوں کی حرص ہوتی ہے اور جو بادشاہ زیادہ سے زیادہ اختیارات حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اس میں اور زمین پر پڑے اس شخص میں کوئی فرق نہیں ہوتا‘ آپ اختیارات سمیٹنے کی بجائے اختیارات بانٹنا شروع کر دیں‘ آپ کو خوشی مل جائے گی“۔