ہیلتھ ٹپس

کمر کا درد ۔ ایک تکلیف،ایک پریشانی


شدید جسمانی چوٹ سے یا بہت زیادہ محنت و مشقت کرنے سے بھی کمر کی رگوں،پٹھوں میں کھچاؤ ہو جاتا ہے اور درد کی شکایت پیدا ہو جاتی ہے

ہمیں یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ جسم کے کسی حصے کی چوٹ بھی کمر کے درد کا سبب بن سکتی ہے۔ریڑھ کی ہڈی کے بالائی حصے میں خرابی،مثانے کے بڑھے ہوئے غدود،متعدی و غیر متعدی بیماریاں اور موروثی حالات یا ماحول بھی کمر کے درد میں مبتلا کر سکتے ہیں۔کمر کے درد کی وجہ سے ہونے والی بے چینی و بے قراری ایک تیز دھار خنجر کی ضرب کی طرح بھی ہو سکتی ہے اور ہلکی چبھن کی شکل میں بھی ہو سکتی ہے۔

دس افراد میں سے آٹھ افراد کمر کے درد کا شکار ہو جاتے ہیں۔
ڈھیلے ڈھالے انداز میں جھُک کر بیٹھنے کی عادت بھی آپ کی کمر کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔بہت دیر تک بے حس و حرکت بیٹھے رہنے سے بھی آپ کے کمر کی رگوں،پٹھوں میں کھچاؤ پیدا ہو سکتا ہے اور آپ کی کمر اکڑ بھی سکتی ہے،لیکن اگر بہت دیر تک بیٹھے رہنا آپ کی عادت میں شامل ہو چکا ہے تو کچھ وقت نکال کر مندرجہ ذیل طریقوں پر عمل کیجیے:
اپنی کمر میں معمولی سا جھکاؤ پیدا کرکے اپنی کرسی پر پیچھے کی طرف ٹیک لگا کر اس طرح آرام سے بیٹھ جائیے کہ آپ کے پاؤں فرش پر سیدھی حالت میں رہیں،اس طرح بیٹھے رہنے سے آپ کی کمر کھچاؤ اور اکڑن سے محفوظ رہے گی۔

 

 

کسی کو فون کرتے ہوئے یا اپنے کسی کام کو انجام دیتے ہوئے کچھ دیر کھڑے رہنے کی بھی کوشش کیجیے۔
یاد رکھیے اہمیت اس بات کی نہیں ہوتی کہ آپ کتنا بوجھ اُٹھاتے ہیں،بلکہ اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ آپ کس طرح بوجھ اُٹھاتے ہیں۔یہ بات تو یقینی ہے کہ آپ بہت زیادہ وزنی شے کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتے۔وزن اُٹھانے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ پہلے آپ اُس وزنی شے کے قریب بیٹھ جائیے،اس دوران آپ اپنی کمر سیدھی اور سر اونچا رکھیے،پھر اپنی ٹانگوں پر زور ڈال کر کھڑے ہوتے ہوئے اُس وزنی شے کو اُٹھا لیجیے۔

وزن اُٹھاتے ہوئے یہ خیال رہے کہ آپ کی کمر خم نہ ہو،اس لئے کہ کسی وزنی شے کو اُٹھاتے وقت جسم کا مڑنا یا جھکنا کمر کے لئے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔اسی طرح کرسی پر بیٹھے بیٹھے فرش پر گری ہوئی پنسل کو اُٹھاتے وقت بھی جسم کا مڑنا یا جھکنا کمر کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔جب آپ کرسی پر بیٹھ کر کمپیوٹر پر کام کریں تو اپنی کمر کو سیدھا رکھیے۔بھاری بستوں کو اُٹھانے والے اسکول کے بچے بھی جب اپنے بھاری بستوں کو اُٹھائیں تو اپنی کمر سیدھی رکھیں،ورنہ ریڑھ کی ہڈی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ دیکھا گیا ہے کہ شدید جسمانی چوٹ سے یا بہت زیادہ محنت و مشقت کرنے سے بھی کمر کی رگوں،پٹھوں میں کھچاؤ ہو جاتا ہے اور درد کی شکایت پیدا ہو جاتی ہے،لیکن آرام کرنے سے درد میں رفتہ رفتہ کمی آ جاتی ہے،لہٰذا شدید محنت و مشقت کرنے سے گریز کریں۔

 

اگر کوئی آپ سے یہ کہے کہ کمر کے درد میں بستر پر لیٹے رہنے سے ہی آرام مل سکتا ہے تو یہ بات غلط ہے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ ایک یا دو دن تک مسلسل بستر پر لیٹے رہنے سے آپ کی کمر کے درد میں اضافہ ہو سکتا ہے،کمی نہیں ہو سکتی۔چست و فعال رہنے کی عادت کمر کے درد سے چھٹکارا دلا سکتی ہے۔یہ بات ہمیشہ یاد رکھیے کہ حرکت ہی زندگی کا نام ہے۔کمر کا درد اُن لوگوں میں عام ہوتا ہے،جو مسلسل ایک ہی جگہ بیٹھ کر بہت دیر تک کام کرتے رہتے ہیں،ایسے لوگوں میں آرام طلبی کی عادت پختہ ہو جاتی ہے،نتیجتاً وہ سست ہو جاتے ہیں۔

ایسے لوگ ہفتے کے اختتام (Weekend) پر ایسی سرگرمیوں میں خاص طور پر حصہ لیتے ہیں،جن میں انھیں جسمانی توانائی یا قوت زیادہ خرچ نہ کرنی پڑے،جب کہ وہ پورے ہفتے دفتروں میں بھی مسلسل بیٹھے رہنے والے کاموں میں مصروف رہتے ہیں۔

جو لوگ اپنے جسموں کو انتہائی متناسب رکھنے کی بہت زیادہ کوشش کرتے رہتے ہیں،وہ جسمانی وزن بڑھنے یا مٹاپے کے خوف کی نفسیاتی بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں،جس کی وجہ سے ان کی بھوک ختم ہو جاتی ہے۔

ایسے لوگ بھوک کی کمی کا شکار ہو کر اپنی ہڈیوں کو کمزور کر لیتے ہیں۔اُن کی ہڈیاں بہ آسانی ٹوٹ سکتی ہیں اور اُن کی ریڑھ کی ہڈی کو بھی شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
کوئی بھی فرد اپنی سستی اور کاہلی کی وجہ سے کمر کے درد میں دوبارہ مبتلا ہو سکتا ہے۔جیسا کہ بتایا جا چکا ہے کہ زندگی حرکت کا نام ہے،کہانیوں کا نہیں۔مصطفی زیدی نے کہا تھا:”کہانیوں میں زندگی نہیں ملتی۔

“ہر روز باقاعدگی سے ورزش کرنے سے کمر کے درد سے چھٹکارا مل سکتا ہے۔معالج ایسے لوگوں کو ابتداء میں ہلکی پھلکی ورزش کرنے کا مشورہ دیتے ہیں،جو کسی شدید جسمانی چوٹ کی وجہ سے کمر کے نچلے حصے میں درد کا شکار ہو جاتے ہیں،پھر بتدریج اس ورزش کو بڑھانے کا مشورہ دیتے ہیں اور کمر کے درد کی شکایت میں کمی آنے لگتی ہے۔معالج کی تجویز کردہ یہ ورزش مستقبل میں ہونے والے کمر کے درد میں ہمیں دوبارہ مبتلا ہونے سے بھی بچا سکتی ہے۔

 

ایکوپنکچر طریقِ علاج بھی کمر کے درد میں کمی کر سکتا ہے۔امریکن پین (Pain) سوسائٹی اور امریکی کالج آف فزیشنز کے رہنما اُصولوں کے مطابق مریضوں اور اُن کے معالجین کو اُن لوگوں کے لئے جنھیں ذاتی نگہداشت کے باوجود کمر کے درد میں آرام نہیں ملتا،ایکوپنکچر طریقِ علاج پر غور کرنا چاہیے۔

آج کے جدید ترقی یافتہ زمانے میں جہاں انسان ہمہ وقت پریشانیوں اور ذہنی دباؤ کا شکار ہے،اس کے لئے یوگا ایک مفید طریقِ علاج ہے۔

یوگا میں انسان سب چیزوں کو چھوڑ کر کسی ایک طرف اپنی پوری توجہ مرکوز کر لیتا ہے،جس کی وجہ سے اُس کو سکون کی نعمت مل جاتی ہے اور اس سکون سے اس کے اعصاب کو فائدہ ہوتا ہے،جس کی وجہ سے کمر کے درد میں بھی افاقہ ہوتا ہے۔اس قسم کے علاج کے طریقوں پر آج کل غور و خوض کیا جا رہا ہے اور انھیں مفید پایا جا رہا ہے۔
اسپین میں جب ایسے لوگوں پر تحقیق کی گئی،جو اپنے کام کے دوران دیر تک کھڑے رہتے تھے تو وہ لوگ کمر کے شدید درد میں مبتلا پائے گئے۔

تحقیق کے دوران پتا چلا کہ یہ لوگ جب کم سخت گدوں پر سوئے تو اُن کے درد میں کمی پائی گئی اور ایسے لوگوں کو شدید درد میں مبتلا پایا گیا،جو سخت گدوں پر سوتے تھے۔

اپنے معالج کے مشورے سے ضروری ورزشیں کیجیے اور وہ جو ادویہ تجویز کرے،وہ پابندی سے کھائیے۔وزن کم کرنے اور تمباکو نوشی ترک کرنے سے بھی کمر کے درد میں بہت فائدہ ہوتا ہے۔گھیکوار کا رس درد دُور کرنے میں کام آتا ہے۔گھیکوار جوڑوں کو ٹھیک رکھنے میں مددگار ہوتا ہے،یہ جسم کے عضلات کی حرکات کو بھی بہتر کرتا ہے۔اس کے علاوہ دودھ اور زیتون کے تیل کو بھی اپنی غذاؤں میں شامل کر لیجیے۔