خصوصی فیچرز

دل کی مراد پانے کا نسخہ


گوتم بدھ نے 563قبل مسیح میں بودھ مت کی بنیاد رکھی تھی۔ یہ مذہب انسانی خواہشات کو سکون اور اطمینان کا دشمن سمجھتا ہے۔ مہاتما بودھ کہا کرتے تھے ”خواہش ہمیشہ دکھ دیتی ہے‘ اگر تم نروان یعنی سکون حاصل کرنا چاہتے ہو تو تم اپنی خواہشات کم کر دو“۔ گوتم بودھ کا یہ فلسفہ اس مذہب کی بنیاد تھا چنانچہ بودھ مت کے پجاری انسانی خواہشات سے پرہیز کرتے ہیں۔ یہ لوگ ستر ڈھانپنے کیلئے ان سلی چادریں استعمال کرتے ہیں‘ ننگے پاؤں رہتے ہیں یا پھر لکڑی کی چپلیں پہنتے ہیں‘ کھلے آسمان کے نیچے سخت زمین پر سوتے ہیں‘ مانگ کر کھاتے ہیں اور صرف اتنا کھاتے ہیں جس سے ان کی زندگی قائم رہ سکے۔ بودھ مت کے پجاری پوری زندگی عورت کو ہاتھ نہیں لگاتے‘ جیب میں روپیہ پیسہ نہیں رکھتے اور اپنی زندگی کا 75 فیصد حصہ سفر میں گزارتے ہیں۔ مہاتما بودھ نے اپنی زندگی کے آخری حصے میں اپنے مریدوں کو ایک چھوٹا سا واقعہ سنایا تھا‘

ان کا کہنا تھا ‘دو بھکشو کسی جنگل سے گزر رہے تھے‘ ان کے راستے میں ایک ندی آ گئی‘ یہ لوگ جب ندی عبور کرنے لگے تو انہوں نے وہاں ایک چھ سات سال کی بچی دیکھی‘ بچی بھی ندی پار کرنا چاہتی تھی لیکن ندی کا پانی تیز تھا لہٰذا وہ ڈر رہی تھی‘ ایک بھکشو کو بچی پر رحم آ گیا‘ اس نے بچی کو کندھے پر اٹھایا‘ ندی کے دوسرے کنارے پر پہنچا اور اسے اتار کر سفر شروع کر دیا۔ چار پانچ میل کے سفر کے بعد اچانک دوسرے بھکشو نے سراٹھایا اور پہلے سے کہا ”تمہارا دھرم برشٹ ہو چکا ہے“ پہلے بھکشو نے پوچھا ” وہ کیسے؟“ دوسرا بولا ”تم نے نہ صرف ناری کوچھوا تھا بلکہ اسے کندھے پر اٹھا کر ندی کے دوسرے کنارے پر بھی پہنچایا“ پہلے بھکشو نے حیرت سے پوچھا ”میں نے یہ کام کب کیا تھا“

دوسرے بھکشو نے جواب دیا ”آج صبح“ پہلے بھکشو نے قہقہہ لگایا اور جواب دیا ”میں نے تو اس بچی کو ندی کے کنارے اتار دیا تھا“ دوسرا بولا ”لیکن وہ ابھی تک تمہارے ذہن پر سوار ہے“۔ یہ واقعہ سنانے کے بعد گوتم بدھ نے اپنے پیروکاروں سے کہا ”دوباتیں یاد رکھنا‘ غلامی جسم کی نہیں ہوتی دماغ کی ہوتی ہے اور جب تک تم اپنے ذہن‘ اپنے دماغ کو خواہشات‘ توقعات اور آرزوؤں سے آزاد نہیں کرتے تم اس وقت تک حالات کے غلام رہو گے اور دوسرا وقت ہمیشہ آگے کی طرف چلتا ہے‘ اگر تم وقت کے ساتھ رہنا چاہتے ہو تو خواہشوں کی ناری کو ندی کے کنارے اتار کر بھول جاؤ اور سورج کی کرنوں کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتے چلے جاؤ۔ تم اپنی مراد پا جاؤ گے“۔