صحت

رات کے کھانے کے بعدچہل قدمی کے چھ ایسے فوائد جو آپ کی سستی بھگادیں گے


رات کو پیٹ بھر کر کھانا کھانے کے بعد ہلکی پھلکی جسمانی سرگرمی کا خیال اچھا محسوس نہیں ہوتا۔مگر روزانہ رات کے کھانے کے بعد کچھ منٹ چہل قدمی کرنے کے کے فوائد دنگ کر دینے والے ہیں۔جی ہاں واقعی یہ عادت متعدد خطرناک امراض سے تحفظ فراہم کرسکتی ہے جبکہ دیگر فوائد الگ ہوتے ہیں۔صرف 100 قدم تیز رفتاری سے چلنے سے بھی آپ اپنی صحت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔اس آسان عادت کو روزمرہ کے معمولات کا حصہ بنانے کے فوائد درج ذیل ہیں۔

نظام ہاضمہ بہتر ہوتا ہے

کھانے کے بعد چہل قدمی سے نظام ہاضمہ بہتر ہوتا ہے اور آنتوں کے افعال متحرک ہوتے ہیں۔آنتوں کے افعال متحرک ہونے سے غذائی نالی سے خوراک گزرنے کا عمل تیز ہو جاتا ہے جس سے بدہضمی، پیٹ پھولنے یا دیگر مسائل سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔

بلڈ شوگر مستحکم ہوتا ہے

رات کو کھانے کے بعد چہل قدمی سے بلڈ شوگر کی سطح کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ چہل قدمی سے مسلز گلوکوز کو زیادہ استعمال کرتے ہیں۔یہ عادت ایسے افراد کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے جن میں ذیابیطس سے متاثر ہونے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

جسمانی وزن میں کمی

کھانے کے بعد جسمانی سرگرمیوں سے کیلوریز کو جلانے میں مدد ملتی ہے جبکہ کچھ دیر بعد بھوک کا سامنا بھی نہیں ہوتا۔اگر آپ روزانہ رات کو کھانے کے بعد چہل قدمی کرتے ہیں تو وقت گزرنے کے ساتھ یہ عادت جسمانی وزن میں کمی لانے کے لیے مفید ثابت ہوتی ہے۔

دل کی صحت بہتر ہوتی ہے

چہل قدمی خون کی شریانوں کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے اچھی ورزش ہے اور بلڈ پریشر میں کمی سے دل کی صحت ہوتی ہے۔چہل قدمی سے کولیسٹرول کی سطح بھی گھٹ جاتی ہے جبکہ خون کی گردش تیز ہوتی ہے اور یہ دونوں ہی دل کی صحت کو بہتر بنانے والے عناصر ہیں۔ماہرین کے مطابق رات کے کھانے کے بعد چہل قدمی سے امراض قلب اور فالج کا خطرہ کم کرنا ممکن ہے۔

تناؤ پر قابو پانا ممکن ہوتا ہے

چہل قدمی سے جسم میں ایسے ہارمونز کا اخراج ہوتا ہے جو مزاج پر خوشگوار اثرات مرتب کرتے ہیں۔اس سے تناؤ میں کمی لانے کے ساتھ ساتھ دیگر ذہنی امراض سے بچنا بھی آسان ہو جاتا ہے۔

نیند بہتر ہوتی ہے

جسمانی سرگرمیوں بالخصوص رات کو چہل قدمی سے اچھی نیند کا حصول آسان ہو جاتا ہے۔رات کو کھانے کے بعد چہل قدمی سے جسم کو سکون ملتا ہے اور وہ اچھی نیند کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔